🌙 "ایک خط بارش کا"
بارش کی رات تھی۔
شہر کی سڑکوں پر خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
زینب اپنی کھڑکی کے پاس بیٹھی چائے پی رہی تھی — جیسے ہر رات۔
مگر آج کچھ مختلف تھا۔
آج اُس کے دل میں پھر علی کی یاد جاگی تھی۔
علی، جو کبھی اُس کے ساتھ انہی گلیوں میں ہنستا، باتیں کرتا، خواب بُنتا تھا۔
مگر ایک دن وہ چلا گیا — بغیر کچھ کہے۔
بس ایک خط چھوڑ گیا، جس پر لکھا تھا:
“اگر قسمت نے چاہا، ہم دوبارہ ملیں گے… ورنہ دعا میں یاد رکھنا۔”
🌧️ سال گزرتے گئے،
زینب نے اس خط کو اپنی کتاب میں چھپا رکھا تھا۔
ہر بارش میں وہ کتاب کھولتی، خط پڑھتی، اور کھڑکی سے باہر دیکھتی — جیسے وہ اب بھی لوٹ آئے گا۔
ایک دن، جب بہت تیز بارش ہو رہی تھی، دروازے پر دستک ہوئی۔
وہ بھاگی — دل میں اُمید جاگ اُٹھی۔
دروازہ کھولا تو ایک چھوٹا سا بچہ کھڑا تھا، ہاتھ میں پرانا لفافہ۔
“خالہ، یہ لفافہ میرے ابو نے دیا تھا، کہ اگر کبھی تمہیں زینب نام کی کوئی عورت ملے تو دے دینا۔”
زینب کے ہاتھ لرز گئے۔
لفافہ گیلا تھا، مگر اندر کا کاغذ ابھی بھی محفوظ تھا۔
اس پر لکھا تھا:
“زینب، اگر تم یہ خط پڑھ رہی ہو، تو میں اب دنیا میں نہیں۔
میری آخری دعا یہی تھی کہ بارش کے کسی دن تم یہ جان لو — میں تمہیں کبھی بھولا نہیں۔
تم میری دعا تھی، جو قبول نہ ہوئی… مگر ختم بھی نہ ہوئی۔”
زینب نے خط سینے سے لگایا، آنکھیں بند کیں،
اور بارش میں مسکرائی۔
“تم گئے نہیں، علی… تم تو ہر بوند میں ہو۔”
💔 کچھ محبتیں ختم نہیں ہوتیں — وہ صرف خاموش ہو جاتی ہیں۔
کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کے لیے ایک اور اُردو کہانی لکھوں؟
Comments
Post a Comment